اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی جنرل محمد علی جعفری نے اتوار کے روز (16 ستمبر 2012) سپاہ پاسداران کی تین فورسز (بری، بحری اور فضائی) کی تشکیل پر مبنی امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے فرمان کی سالگرہ کے موقع پر، ایک پرہجوم نیوز کانفرنس سے خطاب کیا اور پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا۔ میجرجنرل محمد علی جعفری نے اپنی پریس کانفرنس میں تازہ ترین دفاعی حصول یابیوں کی وضاحت کرتے ہوئے شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار اور ہر قسم کے ممکنہ خطرے کے خلاف ایران کی جوابی کاروائیوں کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین پر مبنی امریکی ـ صہیونی فلم کی شدید مذمت کی اور کہا: اسلامی انقلاب کی ماہیت کچھ ایسی ہے کہ یہ جنگ، تشدد، دھونس دھمکی اور اسلامی مقدسات کی توہین کے ذریعے رکتا نہیں ہے بلکہ اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے اور اسلامی انقلاب دھونس دھمکی اور توہین کو برداشت نہیں کرتا۔ انھوں نے کہا: 16 ستمبر سپاہ پاسداران کی تین فورسز کی تشکیل کے سلسلے میں امام رحمۃاللہ علیہ کے تاریخی فرمان کی سالگرہ ہے۔ اس دن سے 27 سال گذرچکے ہیں اور سپاہ پاسداران آج عظیم فوجی اور دفاعی قوت میں بدل چکی ہے۔ ٭ سپاہ جدیدترین ہتھیاروں اور حربی وسائل سے لیسسپاہ کے مجموعے میں بہت اچھی آمادگی پائی جاتی ہے اور سپاہ کے جدید ترین ہتھیاروں اور وسائل سے لیس ہے اور سافٹ ویئرز میں بھی ـ اپنے اطراف میں جاری جنگوں کی بنا پر ـ ہم بہت بہتر وسائل اور صلاحیتیں حاصل کرچکے ہیں اور بیروی خطروں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ قدس فورس اور بسیج فورس امام خامنہ ای ـ حفظہ اللہ تعالی ـ کے فرمان پر تشکیل دی گئیں اور یوں سپاہ پاسداران آج پانچ فورسز کا مجموعہ ہے۔سنہ دو ہزار کے بعد ہمیں انٹیلجنس اور سیکورٹی یا سافٹ وار نیز ثقافتی یلغار کے سلسلے میں مختلف مشنز سونپے گئے اور ان مسائل کے لئے مناسبت ڈھانچہ تیار کیا گیا۔سپاہ پاسداران ہر قسم کے خطرے اور چیلنج کے مقابلے میں انقلاب اسلامی کے دفاع کے لئے تیار ہے اور آج انقلاب اسلامی کو درپیش خطرات کا زیادہ تعلق سافٹ وار یا سیمی ہارڈ وار (Soft and Semi-hard War) کے شعبوں سے ہے۔٭ امریکی اڈے اور انسانی قوت ہمارے میزائلوں کی زد میں ہیںسوال یہ تھا کہ اسرائیلی حملے کے صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران کا رد عمل کیا ہوگا؟ اور انھوں نے جواب دیا:اسرائیل اپنے راستے کے اختتام تک پہنچ چکا ہے اور اسلامی جمہوریہ کی قوت نیز اسلامی بیداری کے فروغ کی وجہ سے صہیونی ریاست کو تشویش لاحق ہوئی ہے اور وہ سوچ رہی ہے کہ گویا اسلامی جمہوریہ ایران کو دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے اس کے اصل ہدف سے منحرف کیا جاسکے گا۔صہیونی ریاست مستقبل کی نسبت بہت فکرمند ہے اور تشویش کی شدت کی بنا پر امریکہ کو ایران کے خلاف اقدام کرنے کے لئے اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہورہی ہے کیونکہ امریکہ کی زد پذیریاں زیادہ ہیں۔ ایران کے اردگرد امریکہ کے کئی فوجی اڈے انسانی قوت ہے جو سپاہ پاسداران کے میزائلوں کی زد میں ہیں اور دوسری طرف سے دنیا اور علاقے کے لوگ اسلامی انقلاب اور ایران کے حامی ہیں اور یہ مسائل امریکہ کے سامنے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور پھر وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ ایک جنگ کے کیا نقصانات اور منفی نتائج ہوسکتے ہیں چنانچہ اس حقیقت سے وہ واقف ہیں کہ انہیں ایسی کوئی جنگ کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ گوکہ ان میں سے بعض دھمکیاں، نفسیاتی ہیں اور وہ پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ اس حربے (نفسیاتی جنگ) کو بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن حالات سے ظاہر ہوتا ہے بعید از قیاس ہے کہ وہ ایسا کوئی اقدام کریں۔ ٭ توہین آمیز فلم افراد کے قتل کا جواز نہیں ہےسوال یہ تھا کہ کیا توہین آمیز فلم لیبیا میں امریکی سفارتکاروں کے قتل کا جواز تھا؟ جس کے جواب میں جنرل جعفری نے کہا:توہین آمیز فلم بعض افراد کے قتل کا جواز فراہم نہیں کرتی اور ایسا کوئی قتل صحیح نہیں ہے؛ لیکن بہرحال مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا گیا ہے اور مسلمان عوام کے لئے صرف یہی ممکن تھا کہ فلم کے حامی ملک کے سفارتخانوں کے طرف چلے جائیں اور فلم کا حامی امریکہ تھا چنانچہ وہ امریکی سفارتخانوں کی طرف گئے اور احتجاج اور غم و غصے کے باعث یہ حادثہ رونما ہوا۔ ٭ مسلمان دوسروں کے مقدسات کی توہین نہیں کرتےکہیں بھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ کسی مسلمان نے عیسائیت اور حضرت عیسی (علیہ السلام) اور یہودیت اور حضرت موسی (علیہ السلام) کی توہین کی ہو لیکن جب اس قسم اہانتیں امریکہ جیسے ملک میں ـ بیان کی آزادی کے بہانے ـ انجام پاتی ہیں، تو ہم مطمئن ہوجاتے ہیں کہ یہ اعمال منصوبہ بندی کے تحت انجام پائے ہیں گوکہ ان کا نتیجہ الٹ گیا اورانقلاب اسلامی کی حقانیت ثابت ہوئی۔ ٭ کیا ایران حفظ تقدم کے لئے کاروائی کرے گا؟سوال یہ تھا کہ اگر ایران کو اسرائیلی حملے کا وقت معلوم ہوجائے تو کیا وہ حفظ ما تقدم کے لئے پیشگی حملہ کرے گا؟ جواب یہ تھا:نہیں! ایران کی صلاحیتوں اور جنگ جاری رکھنے کی اہلیت نیز انقلاب اسلامی کے لئے مسلمانان عالم کی حمایت کو مدنظر رکھ دشمن کے حملے کا سد باب کرنے کے لئے پیشگی حملے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور ہم ایسے حملے کو جائز نہیں سمجھتے۔ ہماری جنگی تیاری اور جواب کاروائی کی شدت اور تیز رفتاری اس حد پر ہے کہ یہ خود دشمن کو حملے سے روکتی ہے۔ ٭ قدس فورس کے افراد ابتداء ہی سے لبنان اور شام میں موجود ہیںیہ بھی ایک سوال کا جواب تھا، جنرل جعفری نے کہا:سب جانتے ہیں سپاہ میں ایک یونٹ "اسلامک موومنٹس یونٹ" پہلے سے موجود ہے جس کا تعلق مستضعفین کی مدد اور عالمی اسلامی میں بیداری جیسے امور سے تھا اور جب سے قدس فورس تشکیل پائی ہے اس نے مظلوم مسلم ملتوں کی حمایت کے حوالے سے بعض اقدامات کئے ہیں اور لبنان اور شام میں قدس فورس کی ایک تعداد پہلے سے موجود ہے جو کسی ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی موجودگی نہیں سمجھی جاتی۔ شام میں مخالف گروہوں کو پہنچنے والی بعض عرب ممالک کی ہمہ جہت امداد کی فراہمی کے مقابلے میں ہم شام میں کچھ بھی نہیں کررہے ہیں بلکہ صرف فکری اور اخلاقی مدد فراہم کرتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں یا تجربات منتقل کرتے ہیں۔ ٭ شام کو تجربات کی منتقلی ایران کے افتخارات و اعزازات میں سے ہےیہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے باعث فخر ہے کہ شام کو فکری اور اخلاقی امداد فراہم کررہا ہے کیونکہ شام مزاحمت محاذ کا رکن ملک ہے حالانکہ دوسرے ممالک بڑی لاپروائی سے مخالف گروہوں کی مدد کررہے ہیں اور ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ ٭ ایران ـ شام فوجی معاہدہایران اور شام کے درمیان ایک فوجی معاہدہ موجود ہے جس پر عملدرآمد حالات پر منحصر ہے اور یہ کہ اگر شام پر بیرونی حملہ ہوا تو کیا ایران شام کا براہ راست دفاع کرے گا یا نہیں، اس کا تعلق حالات سے ہے جیسے حالات ہونگے ہم بھی ویسا ہی فیصلہ کریں گے۔ ٭ حزب اللہ اور شام میں مداخلت کرنے والے ممالک کا انجامسوال حزب اللہ کے اس موقف کے بارے میں تھا کہ اگر حزب اللہ شام میں مداخلت نہیں کررہی ہے تو اس موقف کا مطلب کیا ہے کہ "شام میں مداخلت کرنے والوں کو اپنے انجام کی توقع کرنی چاہئے"؟ جواب یہ تھا:شام اور لبنان کے درمیان اتحاد پہلے سے موجود ہے جو ایران ـ شام معاہدے سے مختلف ہے۔ دوسری طرف سے حزب اللہ اور اسلامی مزاحمت تحریک اپنے فیصلوں میں خودمختار ہیں اور اس بات کا فیصلہ ان ہی سے تعلق رکھتا ہے کہ وہ شام کی حکومت کی امداد کے لئے اقدام کریں یا نہ کریں؛ پہلے ہی سے حکومت لبنان کی مدد کے لئے شامی افواج لبنان میں موجود تھیں اور یہ ایک فطری سی بات ہے کہ اگر شامی عوام کو مدد کی ضرورت ہو لبنانی عوام ان کی مدد کریں گے جس کا اسلامی جمہوریہ ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ماضی سے دو ملکوں کے اتحاد کے پیش نظر یہ عین ممکن ہے کہ لبنانی شامیوں کی مدد کریں۔ ٭ شام میں 50ہزار رضا فورس (بسیج) کی تشکیلتاہم شام کے 50 ہزار باشندوں نے "جیش الشعبی (قومی فوج یا بسیج)" تشکیل دی ہے اور علاقائی اور غیر علاقائی ممالک کی اس بزدلانہ یلغار کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور چونکہ بشار اسد کو اپنے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے چنانچہ بہت بعید ہے کہ ان کو بیرونی مدد کی ضرورت پڑے۔ ٭ کیا ترک طیارے کو مارگرانے والے ہتھیار ایرانی تھے؟یہ ایک سوال تھا جس کے جواب میں جنرل جعفری نے کہا:نہیں! ترک طیارے کو مارگرانے والے ہتھیار بظاہر روسی ساخت کے تھے۔سوال یہ تھا کہ سپاہ کے ایک کمانڈر جنرل جزائری نے کہا ہے کہ "محاذ مزاحمت شام کی مدد کو جائے گا؟" کیا ایسا ہوگا؟ انھوں نے جواب دیا:جنرل جزائری نے درحقیقت محاذ مزاحمت کی قوت کے حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کیا ہے کہ اگر کسی دن ضرورت پڑے تو اسلامی مزاحمت تحریک ـ جس کا بڑا حصہ لبنان میں ہے ـ میدان میں اترے گا اور وہ اس کے نتائج دیکھ لیں گے۔ انھوں نے کہا: یہ قرآن کا صریح حکم ہے کہ مسلمان، مسلم ممالک کی مدد کو نکلیں اور ہم جانتے ہیں کہ اسلامی مزاحمت تحریک کا تعلق حکومتوں سے نہیں ہے۔ ٭ زلزال نامی راکٹ کی نشانہ زنی کی درستگی 50 میٹر سے کمسوال سپاہ پاسداران کی فوجی حصولیابیوں خاص طور پر 300 کلومیٹر تک مار کرنے والے راکٹوں "زلزال" کے بارے میں تھا اور جنرل جعفری نے کہا:زلزال راکٹ 15، 20 سال قبل تیار کئے گئے تھے جو 300 کیلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں لیکن اس کی نشانہ زنی اس سے قبل بہت قابل تعریف نہ تھی لیکن ایک نئے پراجیکٹ کے تحت ان کی نشانہ زنی کی درستگی 50 میٹر سے بھی کم ہوگئی ہے۔ ٭ رعد نامی جدید ترین راڈارجعفری نے طیارہ شکن نظام میں سپاہ کی نئی حصولیابیوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا:حال ہی میں رعد نامی جدید ترین راڈار کی باقاعدہ پیداوار شروع ہوئی جو روس کے "بک" نامی طیارہ شکن نظام سے کہیں بہتر ہے۔ یہ راڈار 50 طول و عرض کے حوالے سے پچاس کلومیٹر تک کام کرتا ہے جبکہ فضا میں 25 سے لے کر 27 کلومیٹر (70ہزار فٹ) تک طیارہ شکن نظام کی راہنمائی کرتا ہے چنانچہ اس کی جدت کی حدت اوسط سے کہیں بہتر ہے اور یہ طیارہ شکن نظام فضائی خطرات کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ٭ ڈرون "شاهد 129" جو میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے"شاہد 129" نامی ڈرون طیارہ سپاہ پاسداران کی جدیدترین حصول یابی ہے جو 24 گھنٹوں تک مسلسل پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن کے مورچوں اور نقل و حرکت کی نگرانی نیز حربی حوالے سے بہت اچھی کارکردگی ک
سپاہ پاسداران کے کمانڈرکی اہم نیوزکانفرنس؛
اسرائیل کا حملہ ناممکن؛ لیکن ہوا تو امریکی اڈے بھی نشانے پر ہونگے
18 ستمبر 2012 - 19:30
News ID: 349208
سپاہ جدیدترین ہتھیاروں سے لیس/ امریکی اڈے ہمارے میزائلوں کی زد میں / مسلمان دوسروں کے مقدسات کی توہین نہیں کرتے / قدس فورس لبنان اور شام میں موجود / ایران ـ شام فوجی معاہدہ / شام میں 50ہزار رضا فورس (بسیج) کی تشکیل / رعد نامی جدید ترین راڈار/ ڈرون "شاهد 129" کی میزائل فائر کرنے کی صلاحیت / اسرائیلی حملے کی صورت میں این پی ٹی کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کا امکان؛ اور دوسرے کئي موضوعات۔